جمہوریت کا لفظ در حقیقت انگریزی لفظ democracy کا ترجمہ ہے اور انگریزی میں یہ لفظ یونانی زبان سے منتقل ہوکر آیا ہے۔ یونانی زبان میں “demo” عوام کو اور “cracy” حاکمیت کو کہتے ہیں۔ عربی میں اس کا ترجمہ دیمقراطیہ کیا گیا ہے۔جمہوریت ایک طرز حکومت ہے جسے آسان الفاظ میں عوام کی حکومت کہا جا سکتا ہے۔ آمریت کے برخلاف اس طرز حکمرانی میں تمام فیصلے عوامی نمائندے کرتے ہیں۔ جمہوریت کی دو بڑی قسمیں ہیں: بلا واسطہ جمہوریت اور بالواسطہ جمہوریت۔ بلاواسطہ جمہوریت میں قوم کی مرضی کا اظہار براہ راست افراد کی رائے سے ہوتا ہے۔ اس قسم کی جمہوریت صرف ایسی جگہ قائم ہو سکتی ہے جہاں ریاست کا رقبہ بہت محدود ہو اور ریاست کے عوام کا یکجا جمع ہو کر غور و فکر کرنا ممکن ہو۔ اس طرز کی جمہوریت قدیم یونان کی شہری مملکتوں میں موجود تھی اور موجودہ دور میں یہ طرز جمہوریت سوئٹیزلینڈ کے چند شہروں اور امریکا میں نیو انگلینڈ کی چند بلدیات تک محدود ہے۔جدید وسیع مملکتوں میں تمام شہریوں کا ایک جگہ جمع ہونا اور اظہار رائے کرنا طبعاً ناممکنات میں سے ہے۔ پھر قانون کا کام اتنا طویل اور پیچیدہ ہوتا ہے کہ معمول کے مطابق تجارتی اور صنعتی زندگی قانون سازی کے جھگڑے میں پڑ کر جاری نہیں رہ سکتی۔ اس لیے جدید جمہوریت کی بنیاد نمائندگی پر رکھی گئی۔ چنانچہ ہر شخص کے مجلس قانون ساز میں حاضر ہونے کی بجائے رائے دہندگی کے ذریعے چند نمائندے منتخب کر لیے جاتے ہیں جو ووٹروں کی طرف سے ریاست کا کام کرتے ہیں۔ جمہوری نظام حکومت میں عوام کے دلوں میں نظام ریاست کا احترام پیدا ہوتا ہے۔ کیونکہ اس میں نظام حکومت خود عوام یا عوام کے نمائندوں کے ذریعے پایۂ تکمیل تک پہنچتا ہے۔ مگر یہ جذبہ صرف اس وقت کار فرما ہوتا ہے جب عوام کی صحیح نمائندگی ہو اور اراکین مملکت کا انتخاب درست اور شفاف ہو۔جمہوریت کی اصطلاحی تعریف بایں الفاظ کی گئی ہے۔ "حکومت کی ایک ایسی حالت جس میں عوام کا منتخب شدہ نمائندہ حکومت چلانے کا اہل ہوتا ہے"۔ یونانی مفکر ہیروڈوٹس نے جمہوریت کا مفہوم اس طرح بیان کیا ہے کہ "جمہوریت ایک ایسی حکومت ہوتی ہے جس میں ریاست کے حاکمانہ اختیارات قانونی طور پر پورے معاشرے کو حاصل ہوتے ہیں"۔
جمہوریت اک طرز حکومت ہے کہ جس میں
بندوں کو گنا کرتے ہیں تولا نہیں کرتے
علامہ اقبال ۔
سابق امریکی صدر ابراہم لنکن کا قول ہے: "goverment of the people,by the people,for the people" یعنی عوام کی حاکمیت، عوام کے ذریعہ اور عوام پر۔
جمہوریت کی جامع تعریف میں خود علمائے سیاست کا بڑا اختلاف ہے، لیکن بحیثیت مجموعی اس سے ایسا نظام حکومت مراد ہے جس میں عوام کی رائے کو کسی نا کسی شکل میں حکومت کی پالیسیاں طے کرنے کے لیے بنیاد بنایا گیا ہو۔چوں کہ مطلق العنان حکومت میں تمام اختیارات ایک ہی شخص کے پاس ہوتے تھے، اس لیے مونٹیسکو نے اس کو لوگوں کے نقصان اور ظلم کا باعث قرار دیا اور یہ کہا کہ ریاست کے اختیارات تین قسم کے ہوتے ہیں لہذا تینوں اختیارات کسی ایک شخص یا ادارے میں مرتکز نہیں ہونے چاہئیں، بلکہ تینوں ادارے ایک دوسرے سے آزاد اور خود مختار ہونے چاہئیں۔ چنانچہ قانون سازی کا اختیار رکھنے والے ادارے کو مقننہ کہا جاتا ہے اور جمہوریت میں یہ اختیار پارلیمنٹ یا اسمبلی کو حاصل ہوتا ہے۔ قانون کے مطابق ملک کے نظم ونسق کا اختیار جس ادارہ کو حاصل ہوتا ہے اسے انتظامیہ یا عاملہ کہا جاتا ہے جس کا سربراہ صدارتی نظام میں صدر مملکت اور پارلیمانی نظام میں وزیر اعظم ہوتا ہے۔ قانون کی تشریح اور تنازعات کا تصفیہ کرنے والے ادارہ کا نام "عدلیہ" ہے جو ملک کی عدالتوں کی شکل میں وجود میں آتا ہے۔ اسی وقت سے جمہوریت کا یہ نظام جاری ہے۔ 9 ستمبر 2022ء کے ”Borgen Magazine” کے مطابق دنیا بھر میں جمہوری ممالک کی تعداد 124 ہے۔ماضی میں مذکورہ تینوں قسم کے اختیارات ایک شخص یا ایک جہت میں مرکوز رہتے تھے۔ وہی قانون بناتے وہی لاگو کرتے اور وہی تنازعات کا تصفیہ کرتے تھے۔ جس کا نتیجہ یہ تھا کہ اگر انتظامیہ کوئی گڑبڑ کرے تو اس کے خلاف فریاد بھی اسی کے پاس لے جانی پڑتی تھی۔
مونٹیسکو نے اسی کو مد نظر رکھتے ہوئے یہ تجویز دی کہ حکومت کے تینوں اعمال الگ الگ اداروں کے پاس ہونے چاہیے اور ان میں سے ہر ایک کو خود مختار ہونا چاہیے یعنی کوئی ادارہ دوسرے کے دباؤ میں نہ ہو۔ مقننہ قانون بنائے، اس کو نافذ انتظامیہ کرے اور عدلیہ خود مختار ہونی چاہیے، تاکہ اگر کسی کو مقننہ یا انتظامیہ سے کوئی شکایت ہے تو وہ عدلیہ کے پاس جائے اور عدلیہ اس کو بلا خوف رفع کرے، انصاف کی بالا دستی قائم ہو اور ہر شخص کو اس کا حق ملے۔پاکستان میں جمہوریت تب ہی کامیاب اور مضبوط ہوسکتی ہے جب عوام کو ان کا حق ملے گا چونکہ ریاست ماں ہوتی ہے اور ماں اپنی اولاد میں فرق نہیں رکھتی لہازا حکومت وقت کو چاہیے کہ عوام کے لیے ایسے فیصلے کرے جس سے ثابت ہو کہ ریاست واقع ہی ماں ہے۔یہ وقت انتشار کا نہیں ہے ہم نے ماضی میں ایسی غلطیوں سے مشرقی پاکستان کھو دیا ہے خدارا اب ہی ایک ہو جائیں اگر پاکستان ہے تو ہم ہیں ۔ملک اس وقت بھی نازک موڑ سے گزر رہا ہے ایک طرف مہنگائی ہے تو دوسری طرف غربت و بےروزگاری ۔کبھی سوات والا واقعہ تو کبھی گوادر میں احتجاج تو کبھی جماعت اسلامی کا دھرنا ۔جماعت اسلامی کی طرح ہر پاکستانی کی یہی خواہش ہے کہ ہمیں جینے دیا جائے لیکن ہم نے پاکستان کے حالات بھی مد نظر رکھنے ہیں کہیں ہم اپنا بہت زیادہ نقصان نا کر بیٹھیں ۔ہمیں مل کر اس ملک کو مشکلات سے نکالنا ہے اور اپنے سیاسی اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر اس ملک کو آگے لے کر جانا ہے ورنہ بہت دیر ہو جائے گی۔ اللّٰہ سے دعا ہے کہ کوئی اور سقوط ڈھاکہ نا ہو اور میرے ملک کو ہمیشہ سلامت رکھے آمین ثم آمین ۔
