حضرت شیخ کالوؒ حضرت سلطان باہوؒ کے مرید تھے۔ایک مرتبہ حضرت سلطان باہوؒ سے ملاقات کی سعادت حاصل کرنے کے لئے حضرت شیخ کالوؒ شورکوٹ گئے،جب وہ حضرت سلطان باہوؒ کے حجرے کے نزدیک پہنچے تو اندر سے ذکر ''ہو''کی آوازیں آرہی تھیں۔انھوں نے سوچا کہ اجازت طلب کرنے پر ذکر میں خلل ہوگا اس لئے وہ ہجرے کے اندر چلے گئے۔اندر داخل ہوتے ہی وہ حیرت میں مبتلا ہوگئے کیونکہ حجرے کے اندر کوئی بھی موجودنہ تھا۔وہ سوچ میں پڑ گئے کہ ذکر کی آوازیں کہاں سے آرہی تھیں۔ابھی وہ یہ سوچ ہی رہے تھے کہ پھر سے ذکر ''ہو''کی آوازیں آنے لگیں۔انھوں نے سوچا کہ شائد حجرے سے باہر کہیں ذکر ہورہا ہے۔وہ جلدی سے باہر گئے اور ادھر ادھر دیکھا مگر باہر بھی کوئی نہ تھا جبکہ ذکر''ہو'' کی آوازیں مسلسل آرہی تھیں۔وہ پھر سے تیزی کے ساتھ ہجرے کے اندر گئے کہ شائد کوئی نظر آجائے مگر ہجرے کے اندر کوئی نہ تھا اور ذکر''ہو'' کی آوزیں مسلسل آرہی تھیں۔وہ حیرت میں مبتلا ہوگئے ،جب معاملہ ان کی سمجھ سے بالاتر ہوگیا تو حیرانگی کی حالت میں بولے''الٰہی یہ کیا ماجرا ہے؟'' پھر ایک شعر پڑھا:
اندر ہو باہر ہو باہو کتھ لبھیندا
ہو دا داغ محبت والا دم دم نال سڑیندا
جیسے ہی حضرت کالوؒ نے یہ شعر پڑھا تو حضرت سلطان باھوؒ کی آواز کے ساتھ شعر سنائی دیا:
جتھے ہوکرے روشنائی چھوڑ اندھارا دیندا
دوہیں جہان غلام تھیندے باہو جیہڑہ نوں صحیح کریندا
اس شعر کے بعد حضرت سلطان باہوؒ ظاہر ہوگئے اور حضرت شیخ کالوؒ کو اپنی زیارت سے فیض یاب فرمایا۔
اسی طرح ایک مرتبہ حضرت سلطان باہو ؒ کے زمانہ میں شور کوٹ کے قریبی علاقے کا ایک رئیس کنگال ہوگیا۔کسی بزرگ نے اُسے سلطان باہوؒ کی خدمت میں حاضر ہونے کا مشورہ دیا۔ کئی میل کا سفر طے کرنے کے بعد جب وہ شورکوٹ پہنچا تو یہ دیکھ کر اُسے سخت رنج پہنچا کہ سلطان باہوؒ ہل چلا رہے ہیں۔وہ دل ہی دل مین سوچنے لگا کہ بھلا ایسا شخص میری کیا مدد کرسکتا ہے؟ ۔یہ سوچ کروہ واپس مڑگیا۔حضرت سلطان باہوؒ اس کو دیکھ رہے تھے۔انھوں نے اس شخص کو آواز دی اور واپس جانے کی وجہ پوچھی۔رئیس بولا'' میں آپ سے مالی امداد حاصل کرنے آیا تھا لیکن جب آپ ؒکا یہ حال ہے توآپؒ میری مدد کیا کر سکتے ہیں۔''سلطان باہوؒ نے رئیس کی بات سننے کے بعد اُسی وقت زمین سے مٹی کا ایک ڈھیلا اُٹھایا اور اُسے زمین پردے مارا۔ اُس شخص نے زمین پر نظر ڈالی تو حیران رہ گیا۔ زمین پر پڑے ہوئے تمام پتھر اور ڈھیلے سونے کے بن چکے تھے۔حضرت سلطان باہوؒ نے فرمایا'' جا اپنی ضرورت کے مطابق سونا اُٹھالے۔''
حضرت سلطان باہوؒ بچپن سے ہی روحانی کرامات رکھتے تھے جب دایہ آپ کو سیر و تفریح کے لیے گھر سے باہر لے جاتی تو آپ کے نورانی چہرہ کو دیکھ کر اکثر ہندو لوگ کلمہ طیب پڑھ لیتے تھے۔ چنانچہ منقول ہے کہ ایک روز شہر کے تمام ہندو اکٹھے ہو کر آپ کے والد کی خدمت عالیہ میں حاضر ہوئے اور عرض کی کہ دایہ آپ کے فرزند ارجمند کو وقت بے وقت باہر لانے سے ہمارے دین کا سخت نقصان کرتی ہے آپ مہربانی فرما کر اپنے برخوردار کے لیے سیر و تفریح کا وقت مقرر کر دیں ہم اپنے دین کی حفاظت کے لیے منادی کرنے والے ملازم رکھ لیں گے آپ نے ان کی درخواست منظور فرما لی چنانچہ ہندوؤں نے اس کام کے لیے نوکر مقرر کر لیے اور انہیں تاکید کر دی جس وقت ننھے حضرت باہوؒاپنے گھر سے باہر تشریف لائیں تو فورا با آواز بلند منادی کر دیں۔ جب نوکر منادی کرتے تو ہندو فورا اپنے دکانوں یا مکانوں کے اندر گھس جاتے۔
