سخن ِ تازہ کی نوید______ شبیر احمد حمید | Luqman Asad

یہ سوشل میڈیا کا زمانہ ہے۔ اس عہدِ جدید نے جہاں پرانی روایات کو یکسر بدل کر رکھ دیا ہے وہاں اس نئی دنیا نے اپنی تہذیب،کلچر اورالگ روایات قائم کر دی ہیں۔ پرانے زمانے میں فاصلاتی اور مواصلاتی سرحدوں کو عبور کرنے اور ایک دوسرے سے رابطہ قائم کرنے کے لیے "خط "ہی واحد ایسا ذریعہ تھا جس پر اُس دور کا انسان سب سے زیادہ انحصار کر تا تھا۔ پھر سائنسی ترقی نے دھیرے،دھیرے پیغام رسانی کے نئے اسباب مہیا کرنا شروع کیے۔پہلے پہل ریڈیو،پھر ٹیلی ویژن اور اب عصرِ حاضر میں چھوٹے سے ایک موبائل فون میں ہی ساری کی ساری دنیا سمٹ کر آچکی ہے۔وطنِ عزیز کے پُر رونق،اہم اور قدیم شہر راولپنڈی سے تعلق رکھنے والے منفرد لب ولہجے کے نواجوان اور ممتاز شاعر شبیر احمد حمید کی شخصیت،شاعری،حالاتِ زندگی اور ان کی ادبی خدمات کا تذکر ہ کرتے ہو ئے یہ تمہیدبیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ اس جدید دنیا نے نوجوان لکھاریوں اور تخلیق کاروں کے مزاج پر بھی گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔ایک قابل ذکر پہلو جس کا یہ ہے کہ وہ جلد شہرت کا حصول چاہتے ہیں،لیکن بہت سے نوجوان شاعر ادیب اب بھی ایسے موجود ہیں جو پرانی روایات کے پابند ہیں۔ان کے اذہان پر شہرت کا بھوت ہر گزسوار نہیں بلکہ وہ اِس ضمن میں کثرتِ مطالعہ،حصولِ علم،عملی جدوجہد اور شعری ریاضت کے تسلسل پر یقین رکھتے ہیں۔انہی نو جوان شعراء میں ایک نام شبیر احمد حمید کا بھی ہے۔کسی بھی میدان میں کسی باصلاحیت فرد کے لیے شخصی یا فنی حوالے سے"شہرت"کو ئی منفی پہلونہیں رکھتی لیکن جلد سے جلد حصولِ شہرت کا وہم کسی بھی تخلیق کار کی صلاحیتوں کو زنگ آلود ضرور کر دیتا ہے۔ دھیمے لہجے میں ٹھہر،ٹھہر کر گفتگو کرنے اور خوبصورت شعر کہنے والے،شستہ مزاج شاعر شبیر احمد حمید کی تاریخ پیدائش 16مئی 1972ء ہے۔وہ راولپنڈی ریلوے اسٹیشن کے قریب واقع لوکوشیڈکالونی میں انجینئر عبدالجلیل کے ہاں پیدا ہو ئے۔ انھوں نے پرائمری جماعت تک کی تعلیم گورنمنٹ بوائز مڈل سکول ڈھوک رتہ سے حاصل کی۔ مڈل گورنمنٹ اسلامیہ ہائی سکول نمبر 3راولپنڈی سے کیا۔میٹرک فیض الاسلام ہائی سکول ٹرنک بازار،ایف اے مسلم ہائر سیکنڈری سکول نمبر 1جب کہ بی اے گورنمنٹ گریجویٹ کالج اصغر مال راولپنڈی سے کیا۔ایم اے اردو،ایم اے اسلامیات اورایم اے عربی پنجاب یونیورسٹی لاہور اور بی ایڈ اور ایم ایڈ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی سے کیا۔تعلیم مکمل کرنے کے بعد وہ تعلیم و تدریس سے وابستہ ہو گئے۔تا حال تدریسی خدما ت کا سلسلہ جاری و ساری ہے۔
 علاج  اُس کا محبت ہے  اور وہ  لڑکی
فضول دوڑتی پھرتی ہے اسپتالوں میں
اپنے اس منفرد شعر سے ادبی دنیا میں پہچان بنانے والے شبیر احمد حمید کا اصل نام شبیراحمد ہے اور حمید تخلص کرتے ہیں۔زمانہ طالب علمی سے ہی انھیں اردو ادب سے رغبت ہو ئی۔ میٹرک اور ایف اے کے دوران ہی وہ شعر کہنے لگے۔سب سے پہلے انھوں نے ساغر صدیقی کو پڑھا بعد میں مرزا اسد اللہ خان غالب اور اُردو زبا ن کے دیگر شعراء کو پڑھا۔یہ 2007ء کی بات ہے جب انھوں نے اپنی ایک غزل بین الاقوامی شہر ت یافتہ شاعر افتخار عارف کو سنائی اور ان سے یہ اجازت طلب کی کہ آیا وہ شاعری کر سکتے ہیں تو افتخار عارف نے انھیں اجازت مراحمت فرمائی اور کہا کہ "لکھا کریں اور فون پر مجھ سے اصلاح لے لیا کریں "۔ 2007ء سے 2008ء تک یہ سلسلہ جاری رہا اور وہ افتخار عارف سے اصلاح لیتے رہے۔ جب افتخار عارف ایران چلے گئے تو اُن ہی کے مشورہ سے شبیر احمد حمید اکادمی ادبیات پاکستان سے وابستہ ملک کے نامور ادیب او رشا عر ڈاکٹر اختر رضا سلیمی سے اصلاح لینے لگے۔2011ء میں انھوں نے ایک ادبی فورم "انحراف انٹرنیشنل " جوائن کیا اور معروف شاعر رحمان حفیظ کی قربت انھیں میسر آئی۔2017ء میں معروف شاعر احمد فرہاد(جنرل سیکرٹری حلقہ) نے انھیں پیش کش کی کہ وہ حلقہ اربابِ ذوق راولپنڈی کے جو ائنٹ سیکرٹری کے لیے اپنی خدمات پیش کریں اور انھوں نے ڈیڑ ھ سال تک حلقہ اربابِ ذوق میں مقبول شاعرعمران عامی(جنرل سیکرٹری حلقہ)کے ساتھ اپنی خدمات پیش کیں۔
خرد تو ویسے ہی اُلجھی رہی سوالوں میں 
زموزِ عشق کو رکھا گیا دھمالوں میں 
ہماری خانہ خرابی میں رنگ بھر دے گا
ہمارا بیٹھنا اُٹھنا خراب حالوں میں 
تمھارے ساتھ کسی اور کو نہیں سوچا 
بڑے خیال سے رکھا تمھیں خیالوں میں 
جہاں بھی لوگ محبت کا ذکر چھیڑیں گے
ہمارا نام ضرور آئے گا حوالوں میں 
تمھارے حُسن کو ہر زاویے سے دیکھنا ہے 
کبھی اندھیرے میں ملنا کبھی اُجالوں میں 
تمھارا چہرہ کبھی  چاند کو دکھاؤں گا 
پھر ایک چٹکی بھروں گا تمھارے گالوں میں 
یہ میرا دل ہے جسے پھول کہہ رہی ہو 
کہو تو پھول سجا  دوں تمھارے بالوں میں 
علاج  اُس کا محبت ہے  اور وہ  لڑکی
فضول دوڑتی پھرتی ہے اسپتالوں میں 
شبیر احمد حمید اپنے اشعار میں جہاں تکلیف دہ معاشر تی رویوں اور زمانے کی کج ادائیو ں کا شکوہ کرتے ہیں وہاں وہ اُمید اور خوشی کا دامن بھی تھامے رکھتے ہیں۔زندگی کی مختلف کیفیات اور سوزوگداز کوبیان کرتے ہو ئے وہ اپنے قاری کو تلخیوں سے آزاد کرنے کی سعی میں بھی محودکھائی دیتے ہیں۔
  درد کو نظم نہ کرتا، مرتا 
میں اگر آہ نہ بھرتا، مرتا
جاں اگر جان سے جاتی جاتی 
دل اگر جاں سے گزرتا، مرتا
ہو کے مصلوب کھلا ہے مجھ پر
گر زمیں پر میں اترتا، مرتا
بارہا اس نے دکھائی آنکھیں 
میں اگر موت سے ڈرتا، مرتا
جو مرے یار سناتے تھے مجھے
کان اُن باتوں پہ دھرتا، مرتا
جان تجھ پر جو لٹاتے تھے حمید
چل دیئے چھوڑ کے مرتا،مرتا
شبیر احمد حمید اپنا خاندانی پس منظر یوں بیان کرتے ہیں " پنجاب اور صوبہ کے پی کے،کے سنگم پر ضلع کوہاٹ میں  لبِ دریاایک علاقہ"خوشحال گڑھ "واقع ہے۔یہاں پر اعوان قبیلہ"قطب شاہی "  آباد ہے۔میرا تعلق اعوان قوم کے اسی قبیلہ سے  ہے۔یہ1901 ؁ء کی بات ہے جب شیر دریا "دریائے سندھ "کے اوپر ضلع اٹک میں ایک برج کی تعمیر کی جا رہی تھی تو میرے دادا نے وہاں مزدوری کی۔ یہ محکمہ ریلوے کا پل تھا اور آج بھی اسی مقام پر موجود ہے اور وہاں سے ریلوے ٹرین گزرتی ہے۔انگریز نے دادا جی کو ریلوے میں بطور پلمبر ملازمت دے دی۔ داد ا جی کی ریلوے سے ریٹائرمنٹ کے بعد میرے والد کو ریلوے میں ملازمت مل گئی اور انھوں نے بطور ٹیلی فون آپریٹر ریلوے میں اپنے کیرئیر کا آغاز کیا۔ پھر کراچی سے الیکڑیکل کے  شعبہ میں ملازمت کے دوران ہی ڈپلومہ کیا اور بطور الیکڑیکل انجینئر ریلوے میں خدمات انجام دینے لگے۔اسی دوران اُن کا تبادلہ راولپنڈی کر دیا گیا تو انھوں نے اپنی ریٹائرمنٹ کے بعدیہیں پر مستقل سکونت اختیار کر لی۔
بلاشبہ شبیر احمد حمید کا شمار عصرِ رواں کی نوجوان نسل کے نمائند ہ شعراء میں ہو تا ہے۔وہ اپنے منفرد اور مخصوص لہجے میں سادہ الفاظ کا استعما ل کرتے ہو ئے خوبصورت شعر کہتے ہیں۔وہ روز مرہ کے معمول میں بو لے جانے والے الفاظ اور جملوں کو اپنی شاعری میں اس عمدگی کے ساتھ ضبط میں لاتے ہیں کہ پڑھنے والے کو بے ساختہ داد دینا پڑتی ہے۔یقیناََ عوام الناس کے لیے بھی اس طرح کی تخلیقات،نثر پاروں اور شاعری کو جہاں سمجھنا آسان ہو جا تا ہے وہاں یہ ان کے لیے قدے دلچسپی کا باعث بنتی ہیں۔ اس طرز میں شبیر احمد حمیدکوشعر کہنے میں خوب ملکہ حاصل ہے۔گویا ان کی شاعر ی سخنِ تازہ کی نوید ہے۔
 ایسے حالا ت میں ہلچل نہیں کی جا سکتی 
زندگی پھر سے مکمل نہیں کی جاسکتی
تیری اُلفت کو زمانے سے چھپا رکھا ہے 
یہ محبت ابھی گوگل نہیں کی جا سکتی 
 ایک ہی ٹیک میں کرنا ہے جو کرنا ہے میاں 
موت کے ساتھ ری ہرسل نہیں کی جا سکتی
ماں کی عظمت اور محبت کے حوالے سے ان کا یہ شعر دیکھیے 
جب تک ماں زندہ ہوتی ہے گھر آنے پر 
دستک سے پہلے دروازہ کھل جا تا ہے 
اُن کی شاعری میں محبت اور ہجرو وصال کے ساتھ ساتھ انقلاب کا رنگ بھی نمایاں ہے 
میں تو فریاد کرنے آیا تھا
ہاتھ زنجیر تک نہیں پہنچے
------
رات میں چین سے سو نہیں پایا 
چوکیدار جو  جاگ رہے تھے
------
جب یہ کھلتا ہے کہ دستارغلط سر پر ہے
لٹ چکے ہوتے ہیں سردار بنانے والے 
شبیر احمد حمید کے ان خوبصورت اشعار کے ساتھ اختتام
میں جاؤں دفترتو تیری خوشبو ہو کالروں میں 
جو گھر کو لوٹوں تو پھر گلے سے لگا لیا کر
 ----------
آستیں سے درد  اٹھا اور دل تک آگیا
دوستی پر حرف آتا دل بڑا کرنا پڑا
---------
اس کے خوابوں تلک رسائی ہوئی
بند گلیوں سے راستے نکلے