زبانوں کے بارے میں حکمِ خدا وندی ہے کہ”تمام زبانیں میری قدرت کی نشانیاں ہیں۔“سبحان اللہ کس قدر خوبصور ت اور قابلِ صد غور حکمِ خدا وندی ہے۔ مگر زبانوں کے بارے اونچ نیچ اور اختلاف رائے پیدا کرنا انسان کا اپنا کارنامہ ہے۔ جبکہ ہر زبان اپنے اندر ایک مخصوص علم و عمل، فکر اور ادراک کا ایک خزانہ رکھتی ہے۔ جیسا کہ اگر ہم اپنی پنجاب زبان کو ہی لیں تو دیکھنے میں یہ بات صاف دکھائی دیتی ہے کہ اس کی بے شمار ضرب الامثال اور محاورات ایسے ہیں جو اپنے اندر علم و فکر کا ایک لا محدود خزانہ رکھتے ہیں۔ نیز ضرب ا لامثال کے بارے میں اہلِ دانش و بینش کی رائے کہ ضرب الامثال عقل مندوں کی برچھیاں ہیں۔ سو ہماری پنجابی زبان ان عاقلانہ برچھیوں سے انتہائی طور پر بھرپور ہے۔ لیکن ہمارے ہاں اور یہاں ہمارے ساتھ یہ نا انصافی ہے کہ پاکستان کے تمام صوبوں میں انھیں ان کی مادری زبان میں تعلیم کی جاتی ہے مثلاً سندھ میں سندھی، صوبہ سرحد میں انھیں ان کی مادری زبان میں تعلیم دی جاتی ہے اور اگر نہیں ہے صرف اور صرف پنجاب میں پنجابی نہیں ہے۔
پاکستان میں پنجابی زبان پر سکولوں اور کالجوں کے دروازے بند ہیں۔ ذرا غور کیجئے جب ایک پنجابی سپیکنگ بچہ سکول کے دروازے میں داخل ہونے کے لیے جاتا ہے تو اس کے پانچ لسانی سال کاٹ دیئے جاتے ہیں یعنی وہ پانچ سال جو اس نے اپنے گھرمیں مادری پنجابی زبان سیکھنے اور سمجھنے کے لیے صرف کیے اور اس پنجابی بچے کے بالمقابل جو بچہ ایک اُردو نام اور قسم کی زبان بولتا ہے تو سکول میں داخل ہو نے کے بعد اس کا چھٹا سال شروع ہوتا ہے۔ کیا یہ ایک انتہائی احمقانہ اور ظالمانہ فعل نہیں ہے جو برابر ناانصافی پر مبنی ہے۔ نیز اُردو زبان جسے کہا جاتا ہے کہ یہ مختلف زبانوں کا مجموعہ ہے۔ اس پر غور حاصل کرنے کے لیے ایک عمرِ خضر درکا ہے۔ اس پر کمانڈ حاصل کرنا کوئی خالہ جی کا باڑہ نہیں ہے جیسا کہ داغ ؔنے لوگوں سے کہا ہے کہ:
اے داغ ؔلوگوں سے کہہ دو
کہ آتی ہے اُردو زباں آتے آتے
داغؔ کے اس شعر میں جو حقیقت بیان ہوئی ہے وہ یہ ہے کہ جیسے کہا گیا ہے کہ اُردو عربی کا جلال، فارسی کا جمال اور ہندی کا کمال ہے لیکن اس کے علاوہ کچھ دوسری زبانوں کے الفاظ بھی اس میں شامل ہیں اور بلا شبہ یہ زبان لفظوں کا ایک لشکر ہے۔ نیز تُرکی زبان میں اُردو کے معنی لشکر کے ہیں کیوں کہ ترکوں کی افواج میں یہ بولی جاتی تھی۔علاوہ ازیں ہر زبان کا لفظ مؤنث ہوتا ہے نہ کہ مذکر۔ یہ دنیا کی واحد زبان ہے جس کا نام بجائے مونث کے مذکر ہے اور یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ زبان کا لفظ بجائے مذکر کے مؤنث کیوں ہوتا ہے؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ پوری دنیا میں بچے اپنی مادری زبان ماں سے سیکھتے ہیں، باپ سے نہیں۔ میری دانست میں یہ کہنا کہ میری زبان اُردو ہے گرائمر کی رو سے سراسر غلط ہے کیونکہ لفظ اُردو کو مذکر ہے بلکہ یوں کہنا صحیح ہے کہ میرا زبان اُردو ہے۔
اس سب کچھ کے علاوہ فطری سائنس نے یہ ثا بت کیا ہے کہ رحمِ مادر میں جب بچے کے جسدِ خاکی میں جیتی جان رواں دواں ہوتی ہے تو وہ بچہ اپنی ماں کی آوازیں سُنتا ہے اور سُننے لگ جاتا ہے۔ واہ سبحان اللہ! گویا وہ اپنی ماں کو اس کی کسی بات کا جواب نہیں دے سکتا یعنی ثابت ہوا کہ مادرِ فطرت کی طرف سے تعلیم و تدریس کا عمل رحمِ مادر سے شروع ہو جاتا ہے یعنی دنیا بھر کے تمام دوسرے بچوں کی طرح ہمارے پنجابی بچوں کا عمل درس و تدریس بھی رحمِ مادر سے شروع ہو جاتا ہے لیکن یہاں ہمارے ہاں ستم بالائے ستم یہ ہے کہ ہمیں فطرت اور قانون ِ فطرت کا کوئی پاس یا لحاظ نہیں ہے اور نہ ہی شعور و ادراک۔ نیز اس ضمن میں یہی ایک وجہ ہے کہ ہمارا پنجابی بچہ سکول اور تعلیم سے بھاگتا ہے کیونکہ اس کی نجی معاشرت میں اس اُردو نامی ڈیوائس کا کوئی عمل دخل نہیں ہے۔
ماضی کی طرف مراجعت کریں تو ہمیں دیکھنا پڑے گا کہ انگریز نے ہندوستان پر تقریباً دو سو سال حکومت کرنے کے دوران صرف اور صرف پنجابی زبان کو ہی شجرِ ممنوعہ بنائے رکھا۔ اس لیے کہ اس نے بھانپ لیا کہ یہ جو پنجابی ہے یہ میری برٹش انڈین آرمی میں فائٹنگ فورس کے لیے بالکل فٹ اور اے ون ہے لہٰذا اسے اَن پڑھ اور جاہل مطلق رکھنا ہی انگلینڈ کے حق میں بہتر ہے اور اگر دوسری اقوام ہم سے پوچھیں کہ آپ نے انھیں غلام تو بنا لیا مگر آپ انھیں پڑھاتے لکھاتے کیوں نہیں تو اُن کا منہ بند کرنے کے لیے بہترین حکمتِ عملی یہی ہے کہ ان پر ایک خود ساختہ اور غیر فطری لسانی ڈیوائس تھوپ دو تاکہ یہ لوگ اس ڈیوائس کے آواگون میں بھٹکتے رہیں اور پھر بھی ان کے پلّے کچھ نہ پڑے۔ کہا جاتا ہے کہ جو اپنی مادری زبان نہیں جانتا اسے کوئی زبان نہیں آتی بلکہ وہ ڈھور ڈنگروں کی طرح بے زبان ہے چاہے وہ ہفت زبان ہی کیوں نہ ہو۔
اپنی مادری زبان کی تقدیس کے بارے میں حضرت علامہ سر ڈاکٹر محمد اقبال کا ایک واقعہ سپردِ قلم کرنے کی جسارت کررہا ہوں کہ وہ لفظ”فالودہ“ کا تلفظ”پھالودہ“ کیا کرتے تھے تو ایک دن اُن کی اہلیہ محترمہ نے اُن سے کہا کہ دیکھئے! ہندوستان کے بڑے سر آوردہ اور پڑھے لکھے لوگ آپ سے ملنے آتے ہیں اور اگر موسم گرما ہو اور محفل میں ٹھنڈی چیزوں کے ذکر میں فالودہ کا ذکر آجائے تو آپ کھٹ سے ایسے تعلیم یافتہ اور مہذب لوگوں کے درمیان بجائے فالودہ کہنے کے پھالودہ کہہ دیتے ہیں۔ کچھ تو خیال کیا کریں، آپ صحتِ تلفظ کے بارے میں۔ علامہ صاحب نے چیں بہ چیں ہوتے ہوئے کہا کہ میری ماں نے مجھے لفظ پھلودہ ہی سکھایا ہے۔کیا اُس نے مجھے غلط لفظ سکھایا ہے؟ پنجابی زبان میں لفظ فالودہ نہیں پھلودہ ہی ہے لہٰذا میں بجائے فالودہ کے پھلودہ ہی کہوں گا۔
علامہ صاحب اپنی تمام حیاتِ مستعار میں اُردو وغیرہ میں لکھتے رہے اور بالآخر ان کے اس عمل یا کارکردگی کا نتیجہ یہ نکلا کہ دہلی کے نام نہاد اہلِ زبان ہونے کا دعویٰ رکھنے والوں نے ان کے کلام میں زبان و بیان کی غلطیوں کی نشان دہی کر دی۔ اسی صورتِ حال کو واضح کرتا ہوا ایک اور واقعہ ہے کہ جب سررابندر ناتھ ٹیگور دُنیا کی شہرہ آفاق کتاب گیتا نجلی کے مصنف لاہور آئے تو ا ن کی آمد پر پنجاب یونیورسٹی کے چند طلباء نے ان کی رائے معلوم کرنے کے لیے اپنی چند نگارشات پیش کیں۔آپ نے نگارشات کو ایک طائرانہ نظر سے دیکھنے کے بعد لڑکوں سے کہا کہ بیٹا اپنی مادری زبان میں لکھا کرو۔
اس کے بعدرابندر ناتھ ٹیگور نے لڑکوں سے کہا کہ میں نے سُنا ہے کہ علامہ صاحب اپنی مادری زبان میں بالکل نہیں لکھتے۔ لڑکوں نے جواب دیتے ہوئے انھیں بتایا کہ جناب پنجابی ایک بولی ہے اور علامہ صاحب نے نظریات اور تصورات اس قدر ارفع و اعلیٰ ہیں کہ پنجابی بولی اپنی تنگ دامنی کی وجہ سے انھیں اپنے اندر سمو نہیں سکتی۔ کیونکہ پنجابی بجائے زبان کے ایک بولی ہے۔ لڑکوں کی زبان سے یہ بات سُن کر سررابندر ناتھ ٹیگور نے مسکراتے ہوئے کہا کہ ہماری بنگلہ بھی ایک بولی تھی لیکن ہم نے اسے زبان بنا دیا۔
پھر اسی نوع کا ایک واقعہ سعادت حسن منٹو سے منسوب ہے کہ وہ اس وقت اُردو دان ادیبوں کی محفل میں بیٹھے تھے اور وہ سب لوگ جنھیں اپنے تئیں اہلِ زبان ہونے پر فخر بھی ہے اور دعویٰ بھی۔اُن کی لن ترانیاں سُن کر سعادت حسن منٹو نے کہا کہ دیکھئے جناب اگر ہمارے ہاتھ سے کوئی برتن پکّے فرش پر گر جائے اور برتن میں چھوٹا اور ہلکا سا گڑھا پڑ جائے تو ہم کہتے ہیں کہ برتن میں ”چب“ پڑ گیا بھلا ایسی صورتِ حال کو بیان کرنے کے لیے آپ کیا کہتے ہیں؟ تمام وہ لوگ جنھیں اپنی زبان دانی اور زبان آوری پر ناز تھا تو وہ سب حضرات اپنے سر سے پاؤں تک کا زور لگاچکے لیکن پھر بھی انھیں پنجابی زبان کے لفظ کا کوئی ہم پایہ لفظ نہ مِل سکا۔نیز منٹو صاحب کا یہ بھی ارشاد ہے کہ جب کوئی پنجابی اُردو بولتا ہے تو یوں لگتا ہے کہ جیسے جھوٹ بول رہا ہے۔
علاوہ ازیں ایک رات اہلِ زبان ادیبوں اور شاعروں کے ادبی اجتماع میں کسی خوش آوا ز شخص نے لحنِ داؤدی میں حضرت پیر وارث شاہؒ کی سدا زندہ رہنے والی ہیر وارث پڑھی تو تمام اہلِ زبان انگشت بدنداں رہ گئے کیونکہ اُن پر ہیر وارث کا ہمہ پہلو جادو چل گیا تھا اور پھر حضرت امیر مینائی نے ایسی ادبی مجلس کو کچھ یوں بیان کیا ہے:
رات سنایا جو قِصّہ ہیر رانجھے کا
تو اہل درد کو پنجابیوں نے لُوٹ لیا
پنجابیوں نے اس لیے لوٹ لیا کہ ہیر وارث، حضرت پیر وارث شاہؒ کے سحر نگار قلم سے بیان ہوئی تھی۔
بابو رام سکسینہ تاریخِ ادب اردو کے مصنف اپنی کتاب کے آخری صفحہ پر لکھتے ہیں کہ:کاش! اُردو زبان کو بھی کوئی وارث شاہ نصیب ہوتا جو کہ نہیں ہوا اور شاید کبھی ہوگا بھی نہیں کیونکہ پنجاب میں بھی پنجابی بے آسرا ہے۔
سیاسی طور پر زبان کا اصل تعلق انسانی زندگی کے تجربات ہوتا ہے سو ہماری پنجابی زبان اپنے عمرانی اعتبار سے صدیوں پر محیط ہے اور اس کے لسانی دامن میں علم و عقل اور فہم و فراست کا ایک خزانہ عامرہ ہے۔ یہ وہ زبان نہیں ہے جو جمعہ جمعہ آٹھ دن یعنی کل کلاں شاہ جہاں کے دربا رمیں پیدا ہوئی تھی اور فی الوقت بھی پنجابی کے بالمقابل اس کے منہ میں دودھ کی دندیاں ہیں۔اسی تناظر میں آپ ذرا حیوانات کی دنیا کو دیکھئے کہ اگر ہم ایک ہی چرنے پر گائے اور بھیس کو باندھیں تو وہ دن رات کی رفاقت کے باوجود اپنی اپنی زبان بولتے ہیں۔ ایک دوسرے کی زبان نہیں بولتے اور یہی حال پرندگان کی دنیا ہے کہ کوّا،چڑیا کی زبان یا چڑیا کوّے کی زبان اختیار نہیں کرتے۔ ماسوائے ہم پنجابیوں کے کہ ہم کسی غیر مادی زبان میں بولنا اپنے لیے باعثِ فخر سمجھتے ہیں۔بلکہ ہم بصد فخر و انبساط یہ کہتے ہوئے ذرا شرم محسوس نہیں کرتے کہ جی میں پنجابی بولتا اور سمجھتا تو ہوں لیکن مجھے پنجابی زبان لکھنی اور پڑھنی نہیں آتی۔ واہ سبحان اللہ۔
نیز یہاں یہ بات بھی ذہن میں رکھنی چاہیے کہ اگر کسی ملک میں کسی کمیونٹی کے لسانی حقوق تسلیم شدہ نہ ہوں تو اس بد نصیب کمیونٹی کے تمام افراد دوسرے درجے کے شہری قرار پاتے ہیں مگر یہاں ہماری پنجابی سرزمین پر دہلی اور لکھنو کا آیا ہوا اُردو بولنے والا ہمارے اپنے گھر پنجاب میں پہلے درجے کا شہری ہے اور ہم اس کے بالمقابل دوسرے درجے کے شہری ہیں۔ اورکہتے ہیں کہ اُلٹی گنگا۔ نیز یہاں یہ بھی ایک لسانی فیشن چل نکلا ہے کہ لوئر مڈل کلاس اور اپر مڈل کلاس کے لوگ اور ان کے بچے بھی بصد فخر و مباہات ایک بے محاورہ بروکن اُردو بولتے ہیں۔
جبکہ دوسری طرف یعنی مشرقی پنجاب میں ایم بی بی ایس کی تعلیم و تدریس اور امتحانی سلسلہ پنجابی کی وساطت سے چل رہا ہے۔ا گر پنجاب میں لسانیات کے ضمن میں اُلٹی گنگا یونہی بہتی رہی تو ہو سکتا ہے کہ یہ سب کو بہاکر لے اپنے ساتھ ہی لے جائے اور کسی کا نام نمود تک باقی نہ رہے۔ اسی ضمن میں ایک اور قابلِ غور بات یہ ہے کہ ہر کسی کو خواب اپنی مادری زبان میں آتا ہے کبھی کسی کو غیر مادری زبان میں خواب نہیں آتا اور یہی خیال آنے کا یعنی خواب و خیال کارشتہ اور واسطہ صرف اور صرف مادری زبان سے وابستہ اور پیوستہ ہے۔قطعاً او ر قطعاً کسی اور غیر مادری زبان سے نہیں ہے۔
علاوہ ازیں انسان خود کلامی بھی اپنی فطری حقیقی اور قدرتی زبان یعنی مادری زبان سے کرتا ہے۔ بے شمار لوگوں کو اس بات کا علم نہیں ہے کہ امریکہ جیسی سُپر پاور کے صدر آئزن ہاور کے دورِ حکومت میں دنیا بھر کے لوک گیتوں اور لوک ڈانسرز کا مقابلہ منعقد کیا گیا تو مقابلے میں پولینڈ کے لوک گیت اپنے لفظی حُسن و خوبی اور درد آفرینی کی بِنا پر پہلے نمبر پر آئے اور پنجابی زبان کے لوگ دوسرے نمبر پر آئے اور اسی ڈانسز کے معاملہ میں ہماری زبان کا لوک ڈانس بھنگڑا پہلے نمبر پر رہا۔ اس ڈانس کو سکھ نوجوان لڑکوں نے اپنے پنجابی لباس میں ملبوس ہو کر پیش کیا۔اس ڈانس کو دیکھنے کے بعد صدر آئزن ہاور نے کہا کہ مجھے تو آج پتہ چلا کہ پنجابی کلچر اس قدر رفیع الشان کلچر ہے۔
لیکن ہمیں آپ اپنی خبر نہیں ہے کیونکہ ہم خود ِ خبر نہیں خودِ خبر لوگ ہیں اسی لیے تو اُردو بولنے والے ہمیں طنز اور تمسخر کے طور پر پنجابی ڈھگّے کہتے ہیں۔ آپ شاید حیران ہوں یہ پڑھ کر کہ انگلینڈ کے سکولوں اور کالجوں میں پنجابی طالب علموں کے لیے پنجابی زبان کا پیریڈ رکھا گیا ہے کیونکہ انگلینڈ میں بے شمار پنجابی لوگ اپنی ملازمتوں اور دیگر روزی روزگار کے سلسلہ میں گئے ہوئے ہیں اور اس گروہ میں ہندو، سکھ اور مسلمان شامل ہیں۔ انگریزوں کا کہنا ہے کہ مادری زبان میں بچے کی تعلیم اس کا قدرتی اور فطری حق ہے مگر یہاں ہمارے برصغیر میں اس پنجابی بچے کے اس فطری حق کو پونے دو سو سال دبائے رکھا ہے۔ کیونکہ اس نے پنجابی کو پنجابی ڈھگابنا کر فوج میں لینا تھا۔ یہ ہوتی ہے سیاسی کلابازیاں۔ یہ نہیں کہ پنجاب میں ہماری ماں بولی کا کوئی خیر خواہ نہیں۔ لاہور سے جناب ضیاء شاہد سمیت کئی ایک اصحاب نے باقاعدہ پنجابی کے روز نامے جاری کیے مگر جو حق پنجابی زبان کو ملنا چاہیے تھا وہ نہیں مل پایا۔ بہر حال ہم سب کو اپنی ماں بولی کے حقوق کے لیے بھاگ دوڑ کرنا ہو گی۔ پنجابی زبان کا ہر لفظ اپنے اندر بڑا ہی رعب رکھتا ہے۔