کرونا وائرس ہفتہ وار مفصل عالمی منظرنامہ

دنیا صدیوں یا دہائیوں میں کیسے بدلتی ہے یہ ماضی نے دکھایا۔ لیکن دنوں کے اندر کیسے تبدیل ہوتی ہے یہ حال دکھا رہا ہے۔ سب سے پہلے معاشرت کو اپنی لپیٹ میں لینے والے وائرس نے صرف تین ماہ میں اس تیزی کے ساتھ معیشت سے سیاست تک ہر شعبے کو اپنے شکنجے میں جکڑا ہے کہ ماضی میں مثال نہیں ملتی۔ باہم شیر و شکر رہنے والے بھی حیران و پریشاں ہیں کہ بقول عدیم ہاشمی۔۔۔

فاصلے ایسے بھی ہوں گے یہ کبھی سوچا نہ تھا
سامنے بیٹھا تھا میرے اور وہ میرا نہ تھا۔۔۔

مجموعی صورتحال:

قربتوں کو فاصلوں میں بدلتی یہ رینگتی موت ایک ایسی مکڑی کی شکل اختیار کر چکی ہے جس کا جال ہر سو بچھ چکا۔ اب تک بائیس لاکھ سے زائد افراد اس کے نرغے میں آ چکے۔ ڈیڑھ لاکھ سے زائد ہمیشہ کے لیے بے بس ہو کر داعی اجل کو لبیک کہ چکے۔ ساڑھے پانچ لاکھ کے قریب خوش نصیب اس شکنجے سے جان چھڑانے میں کامیاب ہو چکے۔ پندرہ لاکھ اس وقت بقاء کی جنگ میں نبردآزما ہیں۔ جن میں سے چھیانوے فی صد مات دینے کے قریب ہیں۔ جبکہ چھپن ہزار کے قریب موت و حیات کے اس مقام پر ہیں جہاں موت کا پہرہ حیات کو چاروں طرف سے گھیرے ہوئے ہے۔ 

دنیا کے چھ بر اعظموں پر اپنا جال پھیلائے ہشت پاء مکڑی کی مانند یہ وائرس اس وقت اسپین، اٹلی، فرانس، جرمنی، برطانیہ، چین، ایران اور ترکی میں اپنے پاؤں جما چکا ہے۔ ان آٹھ ممالک میں سے  ہر ایک میں ستر ہزار سے زائد افراد اس کے دام فریب میں پھنس چکے ہیں۔ اس بناء پر کہا جا سکتا ہے کہ یہ مکڑی اپنی آٹھ ٹانگوں کے ذریعے مکمل وزن یورپ اور ایشیاء میں رکھ چکی۔ لیکن جبڑے اس وقت امریکہ میں گاڑے ہوئے ہیں۔ ان کی سختی اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ امریکہ میں لقمہ اجل بننے والے افراد کی تعداد دنیا کے کسی بھی دوسرے ملک سے کم از کم بھی ڈیڑھ گنا سے زائد ہے۔ 

عالمی سطح پر بڑھتے ہوئے پھیلاؤ کا اندازہ اس بات سے لگا لیجیے کہ پہلے ایک ملین متاثرین تک پہنچنے میں تین ماہ سے زائد کا وقت لگا۔ لیکن اگلے ایک ملین افراد تک تعداد صرف پندرہ دنوں میں ہی پہنچ گئی۔ جبکہ گزشتہ ایک ہفتے سے روزانہ اسّی سے نوے ہزار نئے مصدقہ مریض سامنے آنے کا سلسلہ جاری ہے۔ روزانہ ہلاکتوں کی اوسط تعداد چھ ہزار سے بھی تجاوز کر چکی ہے۔ یہاں یہ سوال اٹھتا ہے کہ آخر اس اندھیر کی کوئی سویر بھی ہے۔ کیا اس گراف کا کوئی نکتہء انتہا بھی ہے؟ خوش قسمتی سے گزشتہ ہفتے کے عالمی اعدادوشمار اس کا جواب "ہاں" میں دیتے ہیں۔ وہ یوں کہ گذشتہ سات دنوں میں وائرس سے شدید متاثرہ ممالک میں نئے مریضوں کا گراف اپنی انتہاؤں کو چھو کر اب نسبتاً ہموار ہو رہا ہے۔

اس بار منظرنامے کو جغرافیائی طور پر تقسیم کرنے کی بجائے کل تعداد کی بنیاد پر تقسیم کیا ہے تا کہ اندازہ ہو سکے کہ یہ عفریت نما وائرس اس وقت کہاں قدم جما رہا ہے، کہاں سے اٹھا رہا ہے۔ اور کہاں پنجے گاڑے ہوئے ہے۔

ایک لاکھ سے زائد کا مریض رکھنے والے ممالک:

امریکا، اسپین، اٹلی، فرانس، جرمنی اور برطانیہ۔۔۔ یہ وہ چھ ممالک ہیں جہاں مجموعی تعداد ایک لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے۔ جبکہ اکیلے امریکا میں مریضوں کی تعداد دیگر درج کردہ تمام ممالک کی مجموعی تعداد سے بھی زائد یعنی سات لاکھ تک پہنچ چکی ہے۔ صرف یہی نہیں امریکہ میں اب تک سینتیس ہزار سے زائد افراد وائرس کا نشانہ بن کر ہمیشہ کے لیے سپردِ خاک ہو چکے ہیں۔ یاد رہے یہ وہی ملک ہے جس نے تین ہزار جانوں کے نقصان پر دنیا کا سیاسی نقشہ بدل کر رکھ دیا تھا۔ اب محض ڈیڑھ ماہ میں چالیس ہزار کے قریب شہری سسک سسک کر جان دے چکے۔ تیرہ ہزار سے زائد اپنی آخری سانسیں گن رہے ہیں۔ جبکہ روزانہ تیس ہزار نئے مریض سامنے آ رہے ہیں لیکن خبری ذرائع کے مطابق ٹرمپ حکومت ابھی تک اقدامات اٹھانے میں سنجیدہ نظر نہیں آتی۔ یا جان بوجھ کر سنجیدہ ہونا نہیں چاہتی۔ شاید اسی لیے کہا جاتا ہے کہ سیاست بڑی بے رحم چیز ہے۔ 

سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتا۔ اس کی مثال برطانیہ اور اٹلی سے بھی لی جا سکتی ہے۔ وہ یوں کہ دنیا بھر میں مثالی اتحاد کی علمبردار یورپی یونین نے تسلیم کیا ہے کہ اٹلی کی بروقت مدد کی جاتی تو آج صورتحال کہیں مختلف ہوتی۔ لیکن جب اٹلی سسک رہا تھا تو یورپ کھسک رہا تھا۔ آج اٹلی اس کھائی سے نکل رہا ہے تو یورپ پھسل رہا ہے۔ واضح رہے کہ اٹلی اور اسپین میں پھیلاؤ اور ہلاکتوں کی قوس اپنی حدوں کو چھو کر ہموار ہو رہی ہے۔ لیکن برطانیہ میں اس کی اٹھان مسلسل جاری ہے۔ ایک لاکھ سے زائد مریض اور چودہ ہزار سے زائد ہلاکتوں کے ساتھ برطانیہ ان ممالک میں شامل ہو رہا ہے جن کے بارے میں پیشگوئی کی گئی ہے کہ یہاں ہلاکتوں کی تعداد پچاس ہزار کے قریب پہنچ سکتی ہے۔ لیکن "ہرڈ امیونٹی" کی دعویدار برطانوی حکومت آج بھی اتنی ہی غیر سنجیدہ ہے جتنی کہ ٹرمپ حکومت۔۔۔ فی الحال دونوں حکومتوں کے لیے شہریوں کی جان سے زیادہ "معاشی پلان" اہمیت رکھتا ہے۔ 

یک لکھی پینل کے دیگر ممالک پر نظر ڈالیں تو فرانس اور جرمنی لپیٹ میں آتے دکھائی دیتے ہیں۔ ڈیڑھ لاکھ کے قریب مریضوں کے ساتھ جرمنی میں اب تک چار ہزار سے زائد افراد جاں بحق ہوئے ہیں۔ شرح اموات کے اعتبار سے جرمنی پینل کے دیگر تمام ممالک سے پیچھے ہے۔ اور ان ممالک میں شامل ہے جو دوسروں کے لیے رول ماڈل بن چکے۔ لیکن تعداد میں مسلسل اضافہ پریشان کن ہے۔ دوسری جانب اٹھارہ ہزار جانیں گنوا دینے والے فرانس میں مریضوں کی مجموعی تعداد ڈیڑھ لاکھ تک پہنچ چکی ہے۔

پچاس ہزار سے ایک لاکھ گروپ:

اس گروپ میں موجود ترکی، ایران اور چین یہ تینوں ممالک ایشیاء سے تعلق رکھتے ہیں۔ چین بیاسی ہزار سے زائد مریضوں کے ساتھ سر فہرست ہے۔ لیکن وائرس کی اس جنم بھومی سے عفریت اپنے قدم اٹھا چکا ہے۔ قوس تقریباً ہموار ہو چکی ہے۔ تاہم یہ سطور تحریر کرتے دوران خبر ہے کہ چین نے ووہان میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد میں پچاس فی صد اضافہ کر کے ڈیٹا کو اپڈیٹ کیا ہے۔ چینی حکومت کا کہنا ہے کہ وائرس کے ابتدائی بارہ سو شکار وہ لوگ ہیں جو گھروں میں ہی خاموش موت کے ہتھے چڑھ گئے تھے۔ لیکن انہیں مجموعی تعداد میں شامل نہیں کیا گیا تھا۔ 

ترکی میں صورتحال اس کے بر عکس ہے۔ جہاں شرح اموات تو دیگر کئی ممالک سے کم ہے لیکن کرفیو اور سخت اقدامات کے باوجود وائرس کا پھیلاؤ ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھتا جا رہا ہے۔ ترکی میں اب تک اسی ہزار کے قریب افراد اس جال میں پھنس چکے۔ دوسری جانب ایران بھی اسی قسم کی ملتی جلتی صورتحال سے گذر رہا ہے۔ تاہم ایران بھی امریکہ اور برطانیہ کی مانند سنجیدہ دکھائی نہیں دیتا۔ ایشیاء میں اب تک چین ہے بعد ایران دوسرا بڑا ملک ہے جہاں مجموعی تعداد اسی ہزار تک پہنچ چکی ہے۔ جبکہ پانچ ہزار کے قریب افراد اپنی جان جانِ آفریں کے سپرد کر چکے۔ 

دس ہزار تا پچاس ہزار گروپ:

اس پینل میں ایشیاء، یورپ اور امریکاز کے تقریباً چودہ ممالک موجود ہیں۔ جنوبی کوریا، بھارت، برازیل اور روس۔۔۔ یہ وہ چار ممالک ہیں جہاں قوس کی اڑان تیزی سے اوپر کی جانب جاری ہے۔ جبکہ کینیڈا، اسرائیل اور پیرو سمیت دیگر ممالک میں یہ اڑان قدرے سست لیکن مسلسل اوپر کا رخ کیے ہوئے ہے۔ گذشتہ ایک ہفتے میں روزانہ مریضوں کی شرح میں اضافے کے اعتبار سے تقریباً ڈیڑھ ارب آبادی رکھنے والا پڑوسی ملک سب سے آگے ہے۔ جہاں مریضوں کی مجموعی تعداد پندرہ ہزار کے قریب پہنچ چکی ہے۔ 

پانچ تا دس ہزار گروپ: 

پاکستان سمیت دنیا کے تقریباً اٹھارہ ممالک اس گروپ میں شامل ہیں۔ یہ وہ پینل ہے جو ماہرین کی توجہ کا اس لحاظ سے بھی مرکز بن چکا ہے کہ یہاں پھیلاؤ کو بروقت روکنے اور اسے سمیٹنے کے تمام تر امکانات موجود ہیں۔ جبکہ غیر سنجیدگی کی صورت معاملات ہاتھ سے نکل جانے کے خدشات بھی باقی ہیں۔ گویا یہ اٹھارہ ممالک اس وقت جال کے اس دہانے پر کھڑے ہیں جہاں سے بچ نکلنے اور پھنس جانے کے چانسز بہ یک وقت سو فی صد ہیں۔ 

پاکستان کی بات کی جائے تو گزشتہ ہفتے میں پاکستان سے نئے مریضوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ روزانہ اوسط سو سے بڑھ کر پانچ سو کے قریب پہنچ چکی ہے۔ جو کہ تشویشناک ہے۔ تاہم خوش آئند امر یہ ہے کہ پاکستان میں صحت یاب ہونے والوں کی تعداد پچیس فی صد تک پہنچ چکی ہے۔ جبکہ زیر علاج مریضوں میں سے بھی زیادہ تر کی حالت خطرے سے باہر ہے۔ 

ایک تا پانچ ہزار گروپ:

دنیا کے تقریباً چالیس ممالک اس پینل میں موجود ہیں۔ جن میں انڈونیشیا، فلپائن، ملائشیا اور سنگاپور جیسے ایشیائی ممالک شامل ہیں۔ جو وائرس کے ابتدائی متاثرین میں سے تھے لیکن پھیلاؤ کو بڑی حد تک قابو پانے میں کامیاب رہے۔ تاہم خبروں کے مطابق گزشتہ ایک ہفتے میں سنگاپور، پانامہ اور قطر جیسے ممالک میں مریضوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ 

ایک ہزار سے کم:

ہم یہ تو جانتے ہیں کہ وائرس کا جال دنیا کے تمام براعظموں اور تمام ممالک تک پھیل چکا ہے۔ لیکن شاید یہ نہیں جانتے کہ دنیا کے 125 سے زائد ممالک ایسے ہیں جہاں دامِ فریب میں آنے والوں کی مجموعی تعداد ایک ہزار سے بھی کم ہے۔ بلکہ ان میں سے بھی ستر کے قریب ایسے ممالک و خطہ ہائے زمین ہیں جہاں مریضوں کی فی خطہ مجموعی تعداد پچاس افراد سے بھی کم ہے۔ یہ پھیلاؤ کا پہلو ہے جو ہماری آنکھوں سے اوجھل ہے۔ 

افغانستان، سری لنکا اور نیپال جیسے جنوبی ایشیائی ممالک کے ساتھ ساتھ اس پینل میں مشرقِ وسطیٰ، مشرقِ بعید اور افریقہ سمیت دیگر خطوں کے سوا سو ممالک ایسے ہیں جہاں یہ وائرس نہ صرف اپنے قدم نہیں جما سکا۔ بلکہ ان میں سے پچاس ایسے ممالک بھی ہیں جو اس کی جانب سے پڑنے والے موت کے سائے سے بھی کلی طور پر آزاد ہیں۔ 

اہم نوٹ: چھ درجوں میں تقسیم ان ممالک کا مفصل منظر نامہ پڑھنے کے بعد بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ پھیلاؤ اور ہلاکت خیزی کے سب سے زیادہ متاثرین میں ایک قدرِ مشترک ہے اور وہ ہے غیر سنجیدگی اور بروقت اقدامات کا نہ اٹھایا جانا۔ یورپ اور امریکہ سمیت دنیا کے کئی ممالک اب لاک ڈاؤن اٹھانے کا سوچ رہے ہیں۔ کیونکہ ان کے پیشِ نظر معیشت کا وہ جال ہے جو نظامِ حکومت کی بقاء کا ضامن ہے۔ جبکہ ہمیں یہ جان لینا چاہیے کہ ہماری بقاء فی الحال قربتوں کی بجائے فاصلوں کو برقرار رکھنے میں ہے۔ یاد رہے میری مراد دل کے نہیں بلکہ جسمانی فاصلوں سے ہے۔ یہ دوریاں ہی نزدیکیوں کو ایک بار پھر سے قائم کریں گی۔ اس لیے وقتاً فوقتاً دی جانے والی ہدایات پر عمل کریں اور حتی الامکان بھیڑ والی جگہوں سے دور رہیں۔ اسے مصلحت کا تقاضا ہی سمجھ لیجیے۔۔۔ تحریر کا اختتام بھی عدیم کے اس شعر میں ذرا تصرف سے کرتا ہوں۔۔۔

مصلحت نے اجنبی ہم کو بنایا ہے عدیمؔ 
ورنہ کب اک دوسرے کو ہم نے پہچانا نہ تھا 

تحریر : ندیم رزاق کھوہارا