مایوسی کفر ہے | Rai Zaheer Hussain

بیشک لوگوں مایوس نہیں ہونا ۔ مایوسی ایک گناہ ہے۔ اور کسی بھی مؤمن و مسلمان کو یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ اللہ کی لامحدود رحمت کے ہوتے ہوئے مایوس ہو۔جب کوئی شخص کسی پریشانی میں مبتلا ہو اور بظاہر بہتری کی کوئی راہ دِکھائی نہ دے رہی ہو ، تووہ ہمت ہار جاتا ہے ، جس پر دوست احباب اسے تسلی دیتے ہوئے کہتے ہیں  کہ اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو ، کیونکہ مایوسی کفر ہے ۔مومن کو اپنے رب عز و جل پر مکمل بھروسہ ہونا چاہیے ، کسی بھی لمحے اپنے رب کی رحمت سے ناامید نہیں ہونا چاہیے ، اللہ تعالیٰ کی رحمت پر ہمیشہ امید رکھنے کی قرآن و حدیث میں تاکید کی گئی ہے ، اس کی رحمت سے ناامید اور مایوس ہونے والے سے متعلق بہت سخت وعیدیں بھی وارد ہوئی ہیں ۔ باقی کسی شخص کے مایوس ہونے سے متعلق حکمِ شرعی یہ ہے کہ اللہ کی رحمت سےناامیدی اور مایوسی ناجائز وحرام اور گناہِ کبیرہ ہے  ، البتہ کفر نہیں ہے ، کیونکہ کسی گناہِ کبیرہ کا محض ارتکاب کرنے سے بندہ کافر نہیں ہوجاتا ، ہاں بعض صورتوں میں مایوسی کفر ہے ، مثلا : یہ عقیدہ ہو کہ اللہ عز و جل میرے حالات کو نہیں دیکھ رہا،  یا میرے حالات سے بے خبر ہے یا میری یہ پریشانی دور کرنے پر قادر نہیں ہے یا یہ عقیدہ ہو کہ معاذ اللہ عز و جل ! اللہ تعالیٰ بخیل ہے کہ میری پریشانی دور نہیں کر رہا ، چونکہ یہ سارے عقیدے کفر ہیں ، اس لیے اگر ان میں سے کسی عقیدے کے ساتھ کوئی شخص مایوس ہوگا ، تو بلاشبہہ ایسی مایوسی ضرور کفر ہے اور اگر اس طرح کا کوئی بھی کفریہ عقیدہ نہ پایا جائے ، تو پھر مایوسی کفر نہیں ، البتہ ناجائز و حرام اور گناہِ کبیرہ ضرور ہے ۔اللہ عز و جل قرآنِ مجید میں ارشاد فرماتا ہے’’ تم فرماؤ اے میرے وہ بندو ! جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ، اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہو ۔ بیشک اللہ سب گناہ بخش دیتا ہے ، بیشک وہی بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘(پارہ 24 ، سورۃ الزمر ، آیت 53)
اسی طرح ایک اور جگہ ارشاد فرمایا ’’اپنے رب کی رحمت سے کون ناامید ہو مگر وہی جو گمراہ ہوئے  ۔ ‘‘  ( پارہ 14 ، سورۃ الحجر ، آیت 56)
اللہ تعالیٰ سے اچھا گمان رکھنے سے متعلق حدیثِ پاک میں ہے کہ  ترجمہ : اللہ عزوجل ارشاد فرماتا ہے میں اپنے بندے کے ساتھ اس کے گمان کے مطابق معاملہ کرتا ہوں۔اگر وہ خیر کا گمان کرے ، تو اس کے لیے خیر ہے اور اگر شر کا گمان رکھے ، تو اس کے لیے شر ہے۔( مسند احمد بن حنبل ، مسند ابی ھریرۃ رضی اللہ عنہ ، جلد 2 ، صفحہ 391 ، مطبوعہ قاھرہ )
  حدیثِ پاک میں اللہ کی رحمت سے ناامید ہونے کو گناہِ کبیرہ قرار دیا گیا ہے ، چنانچہ نبی پاک علیہ الصلوٰۃ و السلام سے کبیرہ گناہوں سے متعلق پوچھا گیا ، تو ارشاد فرمایا  ترجمہ : اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا ، اس کی رحمت سے ناامید ہونا اور اس کی خفیہ تدبیر سے بے خوف ہوجانا ہے ۔( الزواجر عن اقتراف الکبائر ، جلد 1 ، صفحہ 17 ، مطبوعہ دار الفکر ، بیروت )۔مایوسی کا علاج یہ ہے کہ بندہ دوسروں پر نظر رکھنے کے بجائے اپنی زندگی پر غور وفکر کرے ، ربّ عَزَّ وَجَلَّ کا شکر ادا کرتے ہوئے قناعت اختیار کرے،یہ مدنی ذہن بنائے کہ جس ربّ عَزَّ وَجَلَّ نے اسے پرآسائش زندگی عطا فرمائی ہے یقیناً وہ مجھے ویسی ہی زندگی عطا کرنے پر قادر ہے لیکن یہ اس کی مشیت ہے اور میں اس کی مشیت پر راضی ہوں۔ نیز بندہ اس بات پر بھی غور کرے کہ جو شخص دنیا میں جتنی بھی پرآسائش زندگی بسر کرے گا ہوسکتا ہے کل بروز قیامت اسے اتنا ہی سخت حساب وکتاب دینا پڑے، لہٰذا پرآسائش زندگی کی خواہش کرنے کے بجائے سادہ طرز زندگی اپنانے ہی میں عافیت ہے۔بس اللہ تعالیٰ سے اپنے گناہوں کی معافی مانگتے رہنا چاہیے اور مزید گناہ کے کام کرنے سے اجتناب کرنا چاہیے اور اس سے مایوس ہونے کی بجائے رحمت کی دعا کرنی چاہیے 

اللہ تعالیٰ ہمارے گناہ معاف فرماۓ ہم سب پر رحم فرمائے اور نفع بخش بارش کا نزول فرمائے آمین۔